سموئیل 2

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24

0:00
0:00

باب 1

1 اور ساوؔل کی مَوت کے بعد جب داؔؤد عمالیِقیوں کو مار کر لَوٹا اور داؔؤد کو صِؔقلاح میں رہتے ہُوئے دو دِن ہو گئے ۔
2 تو تِیسرے دِن اَیسا ہُؤا کہ ایک شخص لشکر گاہ میں سے ساؔؤل کے پاس سے پَیراہن چاک کئے اور سر پر خاک ڈالے ہُوئے آیا اور جب وہ داؔؤد کے پاس پُہنچا تو زمین پر گِرا اور سجدہ کیا۔
3 داؔؤد نے اُس سے کہا تُو کہاں سے آتا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا مَیں اسرؔائیل کی لشکر گاہ میں سے بچ نکِلا ہُوں ۔
4 تب دؔاؤد نے اُس سے پُوچھا کیا حال رہا؟ ذرا مجھے بھی بتا۔ اُس نے کہا کہ لوگ جنگ میں سے بھاگ گئے اور بہت سے گِرے اور مر گئے اور ساؔؤل اور اُسکا بیٹا یُؔونتن بھی مر گئے ہیں ۔
5 تب دؔاؤد نے اُس جوان سے جِس نے اُسکو یہ خبر دی کہا تجھے کَیسے معلُوم ہے کہ ساؔؤل اور اُسکا بیٹا یُونؔیتن مر گئے ؟۔
6 وہ جوان جِس نے اُسکو یہ خبر دی کہنے لگا کہ میں کوہِ جِلوؔعہ پر اِتفاقاً وارِد ہُؤا اور کیا دیکھا کہ سؔاؤل اپنے نیزہ پر جُھکا ہُؤا ہے اور رتھ اور سوار اُسکا پیچھا کِئے آرہے ہیں ۔
7 اور جب اُس نے اپنے پیچھے نگاہ کی تو مُجھ کو دیکھا اور مُجھے پُکارا۔ میں نے جواب دیا مَیں حاضڑ ہُوں ۔
8 اُس نے مجھے کہا تُو کَون ہے؟ مَیں نے اُسے جواب دیا مَیں عمالیِقی ہُوں ۔
9 پھر اُس نے مُجھ سے کہا میرے پاس کھڑا ہو کر مُجھے قتل کر ڈال کیونکہ مَیں بڑے عذاب میں ہُوں اور اب تک میرا دم مُجھ میں ہے۔
10 تب مَیں نے اُسکے پاس کھڑے ہو کر اُسے قتل کیا کیونکہ مُجھے یقین تھا کہ اب جو وہ گِرا ہے تو بچیگا نہیں اور مَیں اُسکے سر کا تاج اور بازُو پر کاکنگن لے کر اُنکو اپنے خُداوند کے پاس لایا ہُوں ۔
11 تب داؔؤد نے اپنے کپڑوں کو پکڑ کر اُنکو پھاڑ ڈالا اور اُسکے ساتھ کے سب آدمیوں نے بھی اَیسا ہی کیا۔
12 اور وہ ساؔؤل اور اُسکے بیٹے یُونؔتن اور خُداوند کے لوگوں اور اِسؔرائیل کے گھرانے کے لئِے بَوحہ کرنے اور رونے لگے اور شام تک روزہ رکھّا اِسلئے کہ وہ تلوار سے مارے گئے تھے۔
13 پھر دؔاؤد نے اُس جوان سے جو یہ خِبر لایا تھا پوُچھا کہ تُو کہاں کا ہے؟ اُس نے کہا مَیں ایک پردیسی کا بیٹا اور عمالِیقی ہُوں ۔
14 داؔؤد نے اُس سے کہا تُو خُداوند کے ممُسوح کو ہلاک کرنے کے لئِے اُس پر ہاتھ چلانے سے کیوں نہ ڈرا ؟ أ
15 پھر دؔاؤد نےایک نوجوان کو بُلا کر کہا نزدیک جا اور اُس پر حملہ کر۔ سو اُس نے اُسے اَیسا مارا کہ وہ مر گیا۔
16 اور داؤد نے اُس سے کہا تیرا خُون تیرے ہی سر پر ہو کیونکہ تُو ہی نے اپنے مُنہ سے آپ اپنے اُوپر گواہی دی اور کہا کہ مَیں نے خُداوند کے ممسوُح کو جان سے مارا۔
17 اور دؔاؤد نے ساؔؤل اور اُسکے بیٹے یُونؔتن پر اِس مرثیہ کے ساتھ ماتم کیا۔
18 اور اُس نے اُنکو حُکم دِیا کہ بنی یہُوداہ کو کمان کا گیت سِکھائیں ۔ دیکھو وہ یؔاشر کی کتا ب میں لِکھا ہے۔
19 اَے اِسؔرائیل ! تیرے ہی اُونچے مقاموں پر تیرا فخر مارا گیا۔ ہائے ! زبردست کَیسے کھیت آئے!
20 یہ جاؔت میں نہ بتانا۔اسؔقلون کے کُوچوں میں اِسکی خبر نہ کرنا۔ نہ ہو کہ فلِستیوں کی بیٹیاں خُوش ہوں ۔ نہ ہو کہ نامُختونوں کی بیٹیاں فخر کریں ۔
21 اَے جِلبؔوعہ کے پہاڑو!تُم پر نہ اوس پڑے اور نہ بارِش ہو اور نہ ہدیہ کی چیزوں کے کھیت ہوں ۔ کیونکہ وہاں زبردستوں کی سِپر بُری طرح سے پھینک دی گئی۔ یعنی سؔاؤل کی سِپر جس پر تیل نہیں لگایا گیا تھا۔
22 مقُتولوں کے خُون سے زبردستوں کی چربی سے یُونؔتن کی کمان کبھی نہ ٹلی۔ اور سؔاؤل کی تلوار خالی نہ لَوٹی۔
23 ساؔؤل اور یُونؔتن اپنے جیتے جی عزیز اور دِل پسند تھے اور اپنی مَوت کے وقت الگ نہ ہُوئے۔ وہ عُقابوں سے تیز اور شیر ببروں سے زور آوار تھے ۔
24 اَے اِؔسرائیل کی بیٹیوں ! ساؔؤل پر رو۔ جِس نے تُم کو نفِیس نفِیس ارغوانی لِباس پہنائے اور سونے کے زیوروں سے تُمہاری پوشاک کو آراستہ کِیا۔
25 ہائے لڑائی میں زبردست کھیت آئے!یُونؔتن تیرے اُونچے مقاموں پر قتل ہُؤا ۔
26 اِے میرے بھائی یُونؔتن ! مجھے تیرا غم ہے۔ تُو مُجھ کو بہت ہی مرغُوب تھا تیری محُبت میرے لئے عجیب تھی۔ عَورتوں کی محبّت سے بھی زِیادہ۔
27 ہائے زبردست کَیسے کھیت آئے اور جنگ کے ہتھیار نابُود ہو گئے!۔