گنتی

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36

0:00
0:00

باب 33

1 جب بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کے ماتحت دَل باندھے ہوئے ملک مصر سے نکل کر چلے تو ذیل کی منزلوں پر انہوں نے قیام کیا
2 اور موسیٰ نے ان کے سفر کا حال انکی منزلوں کے مطابق خداوند کے حکم سے قلم بند کیا سو ان کے سفر کی منزلیں یہ ییں
3 پہلے مہینے کی پندرھویں تاریخ کو انہوں نے رعمیسس سے کوچ کیا فسح کے دوسرے دن بنی اسرائیل کے لوگ سب مصریوں کی آنکھوں کے سامنے بڑے فخر سے روانہ ہوئے
4 اس وقت مصری اپنے پہلوٹھوں کو جنکو خداوند نے مارا تھا دفن کر رہےتھے خداوند نے ان کے دیوتاؤں کو بھی سزا دی تھی
5 سو بنی اسرائیل نے رعمیسس سے کوچ کر کے سکات میں ڈیرے ڈالے
6 اور سکات سے کوچ کرکے ایتام میں جو بیابان سے ملا ہوا ہے مقیم ہوئے
7 پھر ایتام سے کوچ کر کے فی ہیخروت کو جو بعل صفون کے مقابل ہے مڑ گئے اور مجدال کے سامنے ڈیرے ڈالے
8 پھر انہوں نے فی ہیخروت کے سامنے سے کوچ کیا اور سمندر کے بیچ سے گذر کر بیابان میں داخل ہوئے اور دشت ایتام میں تین دن کی راہ چل کر مارہ میں پڑاؤ کیا ۔
9 اور مارہ سے کوچ کرکے ایلیم میں آئے اور ایلیم میں پانی کے بارہ اچشمے اور کجھور کے ستر درخت تھے سو انہوں نے یہیں ڈیرے ڈال لیے
10 اور ایلیم سے کوچ کر کے انہوں نے بحر قلزم میں ڈیرے کھڑے کیے
11 اور بحر قلزم سے چل کر دشت صین میں خیمہ زن ہوئے
12 اور دشت صین سے کوچ کر کے دفقہ میں ٹھہرے
13 اور دفقہ سے روانہ ہو کر الوس میں مقیم ہوئے
14 اور الوس سے چل کر رفیدیم میں ڈیرے ڈالے یہاں ان لوگوں کو پینےکے لیے پانی نہ ملا
15 اور رفیدیم سے کوچ کر کے دشت سینا میں ٹھہرے
16 اور دشت سیناہ سے چل کر قبروت ہتاوہ میں خیمے کھڑے کیے
17 اور قبروت ہتاوہ سے کوچ کر کے حصیرات میں ڈیرے ڈالے
18 حصیرات سے کوچ کر کے رتمہ میں ڈیرے ڈالے
19 رتمہ سے روانہ ہو کر رمون فارص میں خیمے کھڑے کیے
20 رمون فارص سے جو چلے تو لبناہ میں جا کے مقیم ہوئے
21 اور لبناہ سے کوچ کر کے ریسہ میں ڈیرے ڈالے
22 اور ریسہ سے چل کر قہیلاتہ میں ڈیرے کھڑے کیے
23 اور قہیلاتہ سے چل کر کوہ سافر میں ڈیرا کیا۔
24 کوہ سافت سے کوچ کر کے حرادہ میں میں خیمہ زن ہوئے۔
25 اور حرادا سے سفر کر کے مقہیلوت میں قیام کیا
26 مقہیلوت سے روانہ ہو کر تخت میں خیمے کھڑے کیے
27 تخت سے جو چلے تو تارح میں آ کر ڈیرے ڈالے
28 اور تارح سے کوچ کر کے متقہ میں قیام کیا
29 اورمتقہ سے روانہ ہو کر حشمونہ میں ڈیرے ڈالے
30 اور حشمونہ سے چل کر موسیروت میں ڈیرے کھڑے کیے
31 اور موسیروت سے روانہ ہوکر بنی یعقان میں ڈیرے ڈالے
32 اور بنی یعقان سے چل کر حور ہجدجاد میں خیمہ زن ہوئے
33 اور حور ہجدجاد سے روانہ ہو کر یوطباتہ میں خیمے کھڑے کیے
34 اور یوطباتہ سے چل کر عبرونہ میں ڈیرے ڈالے
35 اور عبرونہ سے چل کر عیصون جابر میں ڈیرا کیا
36 اور عیصون جابر سے روانہ ہو کر دشت صین جو قادس ہے قیام کیا
37 اور قادس سے چل کر کو ہور کے پاس جو ملک ادوم کی سرحد ہے خیمہ زن ہوئے
38 یہاں ہارون کاہن خداوند کے حکم سے کوہ ہو ر پر چڑھ گیا اور اس نے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نلکنے کے چالیسویں بر س کے پانچویں مہینےکی پہلی تاریخ کو وہیں وفات پائی
39 اور جب ہارون نے کوہ ہور پر وفات پائی تو وہ ایک سو تیئس برس کا تھا
40 اور عراد کے کنعانی بادشاہ کوجو ملک کنعان کے جنوب میں رہتا تھا بنی اسرائیل کی آمد کی خبر ملی
41 اور اسرائیل کو کوہ ہور سے کوچ کرکے ضلومونہ میں ٹھہرے
42 ضلمونہ سے کوچ کر کے فونون میں ڈیرے ڈالے
43 اور فونون سے کوچ کر کے ابوت میں قیام کیا
44 اور ابوت سے کوچ کرکے عی عباریم میں جو ملک موآب کی سرحد اپر ہے ڈیرےڈالے
45 اور عییم سے کوچ کرکے دیبون جد میں خیمہ زن ہوئے
46 اور دیبون سے کوچ کر کے عملون دبلہ تایم میں خیمے کھڑے کیے
47 اور عملون دبلہ تایم سے کوچ کر کے عباریم کے کوہستا ن میں جو نبو کے مقابل ہے ڈیرا ڈالا
48 اور عباریم کے کوہستان سے چل کر موآب کے میدانوں میں جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے واقع ہیں خیمہ زن ہوئے
49 اور یردن کے کنارے بیت یسیموت سے لیکر ابیل سطیم تک موآب کے میدانوں میں انہوں نے ڈیرے ڈالے
50 اورخداوند نے موآب کے میدانوں جو یریحو کے مقابل یردن کے کنارے واقع ہیں موسیٰ سے کہا کہ
51 بنی اسرائیل سے یہ کہہ دے کہ جب تم یردن کو عبور کرکے ملک کنعان میں داخل ہو
52 تو تم اس ملک کے سب باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اور انکے شبیہ دار پتھروں کو اور ان کے ڈھالے ہوئے بتوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے سب اونچے مقاموں کو مسمار کر دینا
53 اور تم اس ملک پر قبضہ کر کے اس میں بسنا کیونکہ میں نے وہ ملک تم کو دیا ہے کہ تم اس کے مالک بنو
54 اور تم قرعہ ڈال کر اس ملک کو اپنے گھرانوں میں میراث کے طور پر بانٹ لینا جس خاندان میں زیادہ آدمی ہوں اس کو زیادہ اور جس میں تھوڑے ہوں اس کو کم میراث دینا اور جس آدمی کا قرعہ جس جگہ کے لیے نکلے وہی اس کو حصہ میں ملے تم اپنے آبائی قبائل کے مطابق اپنی میراث لینا
55 لیکن اگر تم اس ملک کے باشندوں کو اپنے آگےسے دور نہ کرو تو جنکو تم باقی رہنے دو گے وہ تمہاری آنکھوں میں خار اور تمہارے پہلوؤں میں کانٹے ہونگے اور اس ملک میں جہاں تم بسو گے تمکو دق کریں گے
56 اور آخر کو یوں ہو گا کہ جیسا میں نے ان کے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ویسا ہی تم سے کروں گا۔