سلاطین 2

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25

0:00
0:00

باب 13

1 اور شاہِ یہوداہ اخزیاہ کے بیٹے یوآس کے تیئسیویں برس سے یہو کا بیٹا یہو آخزسامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سترہ برس سلطنت کی ۔
2 اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں کی پیروی کی جن سے اُس نے بنی اسرائیل سے گناہ کرایا ۔ اُس نے اُن سے کنارہ نہ کیا ۔
3 اور خُداوند کا غصہ بنی اسرائیل پر بھڑکا اور اُس نے اُنو بار بار شاہِ ارام حزائیل اور حزائیل کے بیٹے بن ہدد کے قابو میں کر دیا ۔
4 اور یہوآخزخُداوند کے حضور گڑگڑایا اور خُداوند نے اُسکی سُنی کیونکہ اُس نے اسرائیل کی مظلومی کو دیکھا کہ ارام کا بادشاہ اُن پر کیسا ظُلم کرتا ہے ۔
5 ( اور خُداوند نے بنی اسرائیل کو ایک نجات دینے والا عنایت کیا ۔ سو وہ ارامیوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور بنی اسرائیل پہلے کی طرح اپنے ڈیروں میں رہنے لگے ۔
6 تو بھی اُنہوں نے یُربعام کے گھرانے کے گناہوں سے جن سے اُس نے بنی اسرائیل سے گناہ کرایا کنارہ کشی نہ کی بلکہ اُن ہی پر چلتے رہے اور یسیرت بھی سامریہ میں رہی ) ۔
7 اور اُس نے یہو آخز کے لیے لوگوں میں سے صرف پچاس سوار اور دس رتھ اور دس ہزار پیادے چھوڑے اِس لیے کہ ارام کے بادشاہ نے اُنکو تباہ کر ڈالا اور روند روند کر خاک کی مانند کر دیا ۔
8 اور یہو آخز کے باقی کا م اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور اُسکی قوت سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
9 اور یہو آخز اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے سامریہ میں دفن کیا اور اُسکا بیٹا یوآس اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
10 اور شاہِ یہوداہ یو آس کے سینتیسویں برس یہو آخز کا بیٹا یہو آس سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سولپ برس سلطنت کی۔
11 اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اورنباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا بلکہ اُن ہی پر چلتا رہا ۔
12 او ر یوآس کے باقی کا م اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور اُسکی قوت جس سے وہ شاہِ یہوداہ امصیاہ سے لڑا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
13 اور یوآس اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور یُربعام اُسکے تخت پر بیٹا اور یوآس سامریہ میں اسرائیل کے بادشاہوں کے ساتھ دفن ہوا ۔
14 اور الیشع کو وہ مرض لگا جس سے وہ مر گیا اور شاہِ اسرائیل یو آس اُس کے پاس گیا اور اُس کے اوپر رو کر کہنے لگا اے میرے باپ ! اے میرے باپ ! اسرائیل کے رتھ اور اُس کے سوار!
15 اور الیشع نے اُس سے کہا تیر کمان لے لے ۔ سو اُس نے اپنے لیے تیر و کمان لے لیا ۔
16 پھر اُس نے شاہِ اسرائیل سے کہا کمان پر اپنا ہاتھ رکھ ۔ سو اُس نے اپنا ہاتھ اُس پر رکھا اور الیشع نے بادشاہ کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ۔
17 اورکہا مشرق کی طرف کی کھڑکی کھول ۔ سو اُس نے اُسے کھولا ۔ تب الیشع نے کہا کہ تیر چلا۔ سو اُس نے چلایا ۔ تب وہ کہنے لگا یہ فتح کا تیر خُداوند کا یعنی ارام پر فتح پانے کا تیر ہے کیونکہ تُو افیق میں ارامیوں کو مارے گا یہاں تک کہ اُنکو نابود کر دے گا ۔
18 پھر اُس نے کہا تیروں کو لے سو اُس نے اُنکو لیا ۔ پھر اُس نے شاہِ اسرائیل سے کہا زمین پر مار ۔ سو اُس نے تین بار مارا اور ٹھہر گیا ۔
19 تب مردِ خُدا اُس پر غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ تُجھے پانچ یا چھ بار مارنا چاہیے تھا ۔ تب تُو ارامیوں کو فقط تین بار مارے گا۔
20 اور الیشع نے وفات پائی اور اُنہوں نے اُسے دفن کیا اور نئے سال کے شروع میں موآب کے جتھے مُلک میں گھس آئے۔
21 اور ایسا ہوا کہ جب وہ ایک آدمی کو دفن کر رہے تھے تو اُنکو ایک جتھا نظر آیا ۔ سو اُنہوں نے اُس شخص کو الیشع کی قبر میں ڈال دیا اور وہ شخص الیشع کی ہڈیوں سے ٹکراتے ہی جی اُٹھا اور اپنے پاوں پر کھڑا ہو گیا۔
22 اور شاہ ارام حزائیل یہو آخز کے عہد میں برابر اسرائیل کو ستا تا رہا ۔
23 اور خُداوند اُن پر مہربان ہوا اور اُس نے اُن پر ترس کھایا اور اُس عہد کے سبب سے جو اُس نے ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے باندھا تھا اُنکی طرف التفات کی اور نہ چاہا کہ اُنکو ہلاک کرے اور اب بھی اُنکو اپنے حضور سے دُور نہ کیا ۔
24 اور شاہ ارام حزائیل مر گیا اور اُس کا بیٹا بن ہدد اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
25 اور یہو آخز کے بیٹے یہو آس نے حزائیل کے بیٹے بن ہدد کے ہاتھ سے وہ شہر چھین لیے جو اُس نے اُسکے باپ یہو آخز کے ہاتھ سے جنگ کر کے لیے تھے ۔ تین بار یو آس نے اُسے شکست دی اور اسرائیل کے شہروں کو واپس لے لیا ۔