سلاطین 2

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25

0:00
0:00

باب 24

1 اُسی ایام میں شاہِ بابل نبوکدنضر نے چڑھائی کی اور یہو یقیم تین برس تک اُسکا خادم رہا ۔ تب وہ پھر کر اُس سے منحرف ہو گیا ۔
2 اور خداوند نے کسدیوں کے دل اور ارام کے دل اور موآب کے دل اور بنی عمون کے دل اُس پر بھیجے او یہوداہ پر بھی بھیجے تاکہ اُسے جیسا خداوند نے اپنے بندوں نبیوں کی معرفت فرمایا تھا ہلاک کر دے ۔
3 یقینا خداوند ہی کے حکم سے یہوداہ پر یہ سب کچھ ہوا تا کہ منسی کے سب گناہوں کے باعث جو اُس نے کیے اُنکو اپنی منظر سے دور کر ے ۔
4 اور اُن سب بے گناہوں کے خون کے باعث بھی جسے منسی نے بہایا کیونکہ اُس نے یروشلیم کو بے گناہوں کے خون سے بھر دیا تھا اور خداوند نے معا ف کرنا نہ چاہا ۔
5 اور یہویقیم کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
6 اور یہویقیم اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا یہویاکین اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
7 اور شاہِ مصر پھر کبھی اپنے مُلک سے باہر نہ گیا کیونکہ شاہ بابل نے مصر کے نالے سے دریاِ فرات تک سب کچھ جو شاہِ مصر کا تھا لے لیا تھا ۔
8 اور یہویا کین جب سلطنت کرنے لگا تو اٹھارہ برس کا تھا اور یروشلیم میں اُس نے تین مہینے سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام نحشتا تھا جو یروشلیمی الناتن کی بیٹی تھی ۔
9 اور جو جو اُس کے باپ نے کیا تھا ُسکے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
10 اُس وقت شاہِ بابل نبو کدنضر کے خادموں نے یروشلیم پر چڑھائی کی اور شہر کا محاصرہ کر لیا ۔
11 اور شاہِ بابل نبو کدنضر بھی جب اُسکے خادموں نے اُس شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا وہاں آیا ۔
12 تب شاہِ یہوداہ یہویاکین اپنی ماں اور اپنے ملازموں اور سرداروں اور عہدہ داروں سمیت نکل کر شاہِ بابل کے پاس گیا اور شاہِ بابل نے اپنی سلطنت کے آٹھویں برس اُسے گرفتار کیا ۔
13 اور وہ خداوند کے گھر کے سب خزانوں اور شاہی محل کے سب خزانوں کو وہاں سے لے گیا اور سونے کے سب برتنوں کو جنکو شاہِ اسرائیل سُلیمان نے خداوند کی ہیکل میں بنایا تھا اُس سے کاٹ کر خداوند کے کلام کے مطابق اُنکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ۔
14 اور و سارے یروشلیم کو اور سب سراروں اور سب سورماوں کو جو دس ہزار آدمی تھے اور سب دستکاروں اور لُہاروں کو اسیر کر کے لے گیا ۔ سو وہاں مُلک کے لوگوں میں سے سِوا کنگالوں کے اور کوئی باقی نہ رہا ۔
15 اور یہویاکین کو وہ بابل لے گیا اور بادشاہ کی ماں اور بادشاہ کی بیویوں اور اُس کے عہدہ داروں اور مُلک کے رئیسوں کو وہ اسیر کر کے یروشلیم سے بابل کو لے گیا ۔
16 اور سب طاقتور آدمیوں کو جو سات ہزار تھے اور دستکاروں اور لُہاروں کو جو ایک ہزار تھے اور سب کے سب مضبوط اور جنگ کے لائق تھے شاہِ بابل اسیر کر کے بابل میں لے آیا ۔
17 اور شاہِ بابل نے اُس کے باہ کے بھائی متیاہ کو اُسکی جگہ بادشاہ بنایا اور اُسکا نام بدل کر صدقیاہ رکھا ۔
18 جب صدقیاہ سلطنت کرنے لگا تو اکیس برس کا تھا اور اُس نے گیارہ برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام حموطل تھا جو لبناہی یرمیاہ کی بیٹی تھی ۔
19 اور جو جو یہویقیم نے کیا تھا اُسی کے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
20 کیونکہ خداوند کے غضب کے سبب سے یروشلیم اور یہوداہ کی یہ نوبت آئی کہ آخر اُس نے اُنکو اپنے حضور سے دور ہی کر دیا اور صدقیاہ شاہِ بابل سے منحرف ہو گیا ۔