ایّوب

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42

0:00
0:00

باب 13

میری آنکھ نے تو یہ سب کچھ دیکھا ہے۔میرے کان نے یہ سُنا اور سمجھ بھی لیا ہے ۔
2 جو کچھ تم جانتے ہو اُسے میں بھی جانتا ہُوں ۔ میں تم سے کم نہیں ۔
3 میں تو قادِر مطلق سے گفتگو کرنا چاہتا ہُوں ۔ میری آرزُو ہے کہ خدا کے ساتھ بحث کُروں
4 لیکن تم لوگ تو جھوٹی باتوں کے گھڑنے والے ہو۔تم سب کے سب نکمے طبیب ہو۔
5 کاش تم بالکل خاموش ہوجاتے !یہی تمہاری عقلمندی ہوتی ۔
6 اب میری دلیل سُنو اور میرے منہ کے دعویٰ پر کان لگاؤ ۔
7 کیا تم خدا کے حق میں ناراستی سے باتیں کروگے اور اُسکے حق میں فریب سے بولو گے ؟
8 کیا تم اُسکی طرفداری کروگے ؟ کیا تم خدا کی طرف سے جھگڑو گے ؟
9 کیا یہ اچھا ہوگا کہ وہ تمہاری تفتیش کرے ؟کیا تم اُسے فریب دوگے جیسے آدمی کو ؟
10 وہ ضرور تمہیں ملامت کریگا ۔ اگر تم خُفیتہً طرفداری کرو ۔
11 کیا اُسکا جلال تمہیں ڈرانہ دیگا اور اُسکا رُعب تم پر چھا نہ جائیگا ۔
12 تمہاری معروف باتیں راکھ کی کہاوتیں ہیں ۔تمہاری فصیلیں مٹّی کی فصیلیں ہیں ۔
13 تم چُپ رہو۔مجھے چھوڑو تاکہ میں بول سکوں اور پھر مجھ پر جو بیتے سو بیتے ۔
14 میں اپنا ہی گوشت اپنے دانتوں سے کیوں چباؤں اور اپنی جان اپنی ہتھیلی پر کیوں رکھوں ؟
15 دیکھو وہ مجھے قتل کریگا ۔میں اِنتظار نہیں کرونگا بہرحال میں اپنی راہوں کی تائید اُسکے حُضُور کُرونگا ۔
16 یہ بھی میری نجات کا باعث ہوگا کیونکہ کوئی بے خدا اُسکے سامنے آنہیں سکتا ۔
17 میری تقریر کو غور سے سُنو اور میرا بیان تمہارے کانوں میں پڑے ۔
18 دیکھو میں نے اپنا دعویٰ دُرست کر لیا ہے ۔میں جانتا ہوں کہ میں صادق ہوں ۔
19 کون ہے جو میرے ساتھ جھگڑیگا ؟ کیونکہ پھر تو میں چُپ ہو کر اپنی جان دیدوُنگا ۔
20 فقط دوہی کام مجھ سے نہ کر ۔تب میں تجھ سے نہیں چھپونگا ۔
21 اپنا ہاتھ نجھ سے دُور ہٹا لے اور تیری ہیبت مجھے خوفزدہ نہ کرے ۔
22 تب تیرے بُلانے پر میں جواب دُونگا ۔یا میں بولُوں اور تو مجھے جواب دے ۔
23 میری بدکاریاں اور گناہ کو جان لُوں ۔
24 تو اپنا منہ کیوں چھپا تا ہے اور مجھے اپنادُشمن کیوں جانتا ہے؟
25 کیا تو اُڑتے پتے کو پریشان کریگا ؟ کیا تو سُوکھے ڈنٹھل کے پیچھے پڑیگا ؟
26 کیونکہ تو میرے خلاف تلخ باتیں لکھتا ہے اور میری جوانی کی بدکاریاں مجھ پر واپس لاتا ہے ۔
27 تو میرے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکتااور میری سب راہوں کی نگرانی کرتا ہے ۔اور میرے پاؤں کے گر د خط کھینچتا ہے۔
28 اگرچہ میں سڑی ہُوئی چیز کی طرح ہُوں جو فنا ہوجاتی ہے۔ یا اُس کپڑے کی مانند ہوں جسے کیڑے نے کھا لیا ہو۔