ایّوب

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42

0:00
0:00

باب 32

ایوب ؔ کی باتیں تمام ہُوئیں ۔سو اُن تینوں آدمیوں نے ایوب ؔ کو جواب دینا چھوڑ دیا اِسلئے کہ وہ اپنی نظر میں صادق تھا ۔
2 تب اِلیہوُبنؔ براکیلؔ بُوزی کا جورامؔ کے خاندان سے تھا قہر بھڑکا ۔اُسکا قہر ایوب پر بھڑکا اِسلئے کہ اُس نے خدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہرایا ۔
3 اور اُسکے تینوں دوستوں پر بھی اُسکا قہر بھڑکا اِسلئے کہ اُنہیں جواب تو سُوجھا نہیں تو بھی اُنہوں نے ایوبؔ کو مجرم ٹھہرایا ۔
4 اور الیہوُؔ ایوب ؔ سے بات کرنے سے اِسلئے رُکا رہا کہ وہ اُس سے بڑے تھے۔
5 جب اِلیہوُؔ نے دیکھا کہ اُن تینوں کے منہ میں جواب نہ رہا تو اُسکا قہر بھڑک اُٹھا۔
6 اور براکیلؔ بُوزی کا بیٹا الیہوُ ؔ کہنے لگا:۔میں جوان ہُوں اور تم بہت عمر رسیدہ ہو اِسلئے میں رُکا رہا اور اپنی رائے دینے کی جرُات نہ کی ۔
7 میں نے کہا سالُخور دہ لوگ بولیں اور عمر رسیدہ حکمت سکھائیں ۔
8 لیکن اِنسان میں رُوح ہے اور قادِرمطلق کا دم خردبخشتا ہے۔
9 بڑے آدمی ہی عقلمند نہیں ہوتے اور عمر رسیدہ ہی اِنصاف کو نہیں سمجھتے ۔
10 اِسلئے میں کہتا ہُوں میری سُنو ۔میں بھی اپنی رائے دُونگا ۔
11 دیکھو! میں تمہاری باتوں کے لئے رُکا رہا جب تم الفاظ کی تلاش میں تھے ۔میں تمہاری دلیلوں کا منتظر رہا
12 بلکہ میں تمہاری طرف توجہُّ کرتا رہا اور دیکھو تم میں کوئی نہ تھا جو ایوب ؔ کو قائل کرتا یا اُسکی باتوں کا جواب دیتا ۔
13 خبردار یہ نہ کہنا کہ ہم نے حکمت کو پالیا ہے ۔خدا ہی اُسے لاجواب کرسکتا ہے نہ کہ اِنسان ۔
14 کیونکہ نہ اُس نے مجھے اپنی باتوں کا نشانہ بنایا نہ میں تمہاری سی تقریروں سے اُسے جواب دونگا ۔وہ حیران ہیں ۔
15 وہ اب جواب نہیں دیتے ۔اُنکے پاس کہنے کو کوئی بات نہ رہی ۔
16 اور کیا میں رُکارہوں اِسلئے کہ وہ بولتے نہیں ۔اِسلئے کہ وہ چُپ چاپ کھڑے ہیں اور اب جواب نہیں دیتے ؟
17 میں بھی اپنی بات کہونگا ۔میں بھی اپنی رائے دُونگا ۔
18 کیونکہ میں باتوں سے بھرا ہُوں اور جو رُوح میرے اندر ہے وہ مجھے مجبور کرتی ہے۔
19 دیکھو! میرا پیٹ بے نکاس شراب کی مانند ہے ۔وہ نئی مشکوں کی طرح پھٹنے ہی کو ہے ۔
20 میں بولُو نگا تاکہ مجھے تسکین ہو۔میں اپنے لبوں کوکھولُونگا اور جواب دُونگا ۔
21 نہ میں کسی آدمی کی طرفداری کُرونگا نہ کسی شخص کو خوشامد کے خطاب دُونگا
22 کیونکہ مجھے خوشامد کے خطاب دینا نہیں آتا ۔ ورنہ میرا بنانے والا مجھے جلد اُٹھا لیتا ۔