حزقی ایل

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48

0:00
0:00

باب 3

پھر اس نے مجھے کہا کہ اے آدمزاد جو کچھ تو نے پایا سو کھا۔ اس طومار کو نگل جا اور جا کر اسرائیل کے خاندان سے کلام کر۔
2 تب میں نے منہ کھولا اور اس نے وہ طومار میرے مجھے کھلایا۔
3 پھر اس نے مجھے کہا اے آدمزاد اس طومار کو جو میں تجھے دیتا ہوں کھا جا اور اس سے اپنا پیٹ بھر لے۔ تب میں نے وہ کھایا اور وہ میرے منہ میں شہد کی مانند میٹھا تھا۔
4 پھر اس نے مجھے فرمایا اے آدمزاد تو بنی اسرائیل کے پاس جا اور میری یہ باتیں ان سے کہہ۔
5 کیونکہ تو ایسے لوگوں کی طرف نہیں بھیجا جاتا جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے بلکہ اسرائیل کے خاندان کی طرف۔
6 نہ بہت سی امتوں کی طرف جن کی زبان بیگانہ اور جن کی بولی سخت ہے ۔جن کی بات تو سمجھ نہیں سکتا۔ یقینا اگر میں تجھے ان کے پاس بھیجتا تو وہ تیری سنتیں۔
7 لیکن بنی اسرائیل تیری بات نہ سنیں گے کیونکہ وہ میری سننا نہیں چاہتے کیونکہ سب بنی اسرائیل سخت پیشانی اور سنگ دل ہیں۔
8 دیکھ میں نے ان کے چہرے کے مقابل تیرا چہرہ درشت کیا ہے اور تیری پیشانی ان کی پیشانیوں کے مقابل سخت کر دی ہے۔
9 میں نے تیری پیشانی کو ہیرے کی مانند چقماق سے بھی زیادہ سخت کر دیا ہے ۔ ان سے نہ ڈر اور ان کے چہرے سے ہراسان نہ ہواگر چہ وہ باغی خاندان ہیں۔
10 پھر اس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد میری سب باتون کو جو میں تجھ ے کہوں گا اپنے دل سے قبول کر اور اپنے کانوں سے سن۔
11 اب اٹھ اسیروں یعنی اپنی قوم کے لوگوں کے پاس جا اور ان سے کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے خواہ وہ سنیں خواہ نہ سنیں۔
12 اور روح نے مجھے اٹھا لیا اور میں نے اپنے پیچھے ایک بڑی کڑک آواز سنی جو کہتی تھی کہ خداوند کا جلال اس کے مسکن سے مبارک ہو۔
13 اور جانداروں کے پروں کے آیک دوسرے سے لگنے کی آواز اور ان کے مقابل پہیوں کی آواز اور ایک بڑے دھڑاکے کی آواز سنائی دی۔
14 اور روح مجھے اٹھا کر لے گئی۔ سو میں تلخ دل اور غضبناک ہو کر روانہ ہوا اور خداوند کا ہاتھ مجھ پر غالب تھا۔
15 اور میں تل ابیب میں اسیروں کے پاس جو نہر کبار کے کنارے بستے تھے پہنچا اور جہاں وہ رہتے تھے میں سات دن تک ان کے درمیان پریشان بیٹھا رہا۔
16 اور سات دن کے بعد خداوند کاکلام مجھ پر نازل ہوا۔
17 کہ اے آدمزاد میں نے تجھے نبی اسرائیل کا نگہبان مقرر کیا ۔ پس تو میرے منہ کا کلام سن اور میری طرف سے ان کو آگاہ کر دے۔
18 جب میں شریر سے کہوں کہ تو یقینا مرے گا اور تو اسے آگاہ نہ کرے اور شریر سے نہ کہے کہ وہ اپنی بری روش سے خبردار ہو تاکہ وہ اس سے باز آکر اپنی جان بچائے تو وہ شریر اپنی شرارت میں مرے گا لیکن میں اسکے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
19 لیکن اگر تو نے شریر کو آگاہ کر دیا اور وہ اپنی شرارت اور بری روش سے باز نہ آیا تو وہ اپنی بد کرداری میں مرے گا پر تو نے اپنی جان کو بچا لیا۔
20 اور اگر راستباز اپنی راستبازی چھوڑ دے اور گناہ کرے اور میں اس کے آگے ٹھکر کھلانے والا پتھر رکھوں تو وہ مر جائے گا۔ اس لئے کہ تو نے اسے آگاہ نہیں کیا تو وہ اپنے گناہ میں مرے گا اور اس کی صداقت کے کاموں کا لحاظ نہیں کیا جائے گا پر میں اس کے خون کی باز پرس تجھ سے کروں گا۔
21 لیکن اگر تو اس راستباز کو آگاہ کر دے تاکہ گناہ نہ کرے اور وہ گناہ سے باز رہے تو وہ یقینا جئے گا اسلئے کہ نصیحت پذیر ہوا اور تو نے اپنی جان بچا لی۔
22 اور وہاں خداوند کا ہاتھ مجھ پر تھا اور اس نے مجھے فرمایا اٹھ میدان میں نکل جا اور وہاں میں تجھ سے باتیں کروں گا۔
23 تب میں اٹھ کر میدان میں گیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کا جلال اس شوکت کی مانند جو میں نہرکبار کے کنارے دیکھی تھی کھڑا ہے اور میں منہ کے بل گرا۔
24 تب روح مجھ میں داخل ہوئی اور اس نے مجھے میرے پاﺅں پرکھڑا کیا اور مجھ سے ہمکلام ہو کر فرمایا کہ اپنے گھر جا اور دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ رہ۔
25 اور اے آدمزاد دیکھ وہ تجھ پر بندھن ڈالیں گے اور ان سے تجھے باندھیں گے اور تو ان کے درمیان باہر نہ جائے گا۔
26 اور میں تیری زبان تیرے تالو سے چپکا دوں گا کہ تو گونگا ہو جائےاور ان کے لئے نصیحت گو نہ ہو کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔
27 لیکن جب میں تجھ سے ہمکلام ہوں گا تو تیرا منہ کھولوں گا تن تو ان سے کہے گا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے جو سنتا ہے سنے اور جو نہیں سنتا نہ سنے کیونکہ وہ باغی خاندان ہیں۔